اٹاوہ، 2؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) اتر پردیش کی یوگی حکومت میں دلتوں اور اقلیتی طبقہ پر مظالم کا سلسلہ دن بہ دن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ تازہ معاملہ ریاست کے ضلع اٹاوہ کے بڑھ پورہ علاقہ کا ہے جہاں معمولی بات پر دبنگ نے ایک دلت لڑکے کو گولی مارکر قتل کردیا اور فرار ہوگیا۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈاکٹر برجیش کمار سنگھ نے آج بتایا کہ بڑھ پورہ علاقے کے ادی گاؤں باشندہ راہل کمار (30)جمعرات کی رات تقریباً ساڑھے نو بجے گھر کے نزدیک پرچون کی دوکان پر کچھ سامان لینے گیا تھا۔ اسی دکان پر پہلے سے موجود غیر قانونی اسلحے کے ساتھ کھڑے سچن بھدوریا سے اس کی کہا سنی ہوگئی۔ بات بڑھنے پر دبنگ نے راہل کو گولی ماردی۔ گولی مارنےوالا سچن زخمی راہل کو علاج کے لئے ضلع اسپتال لے گیا اور اسے وہیں چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ ڈاکٹروں نے زخمی کی حالت نازک ہونےپر اسے سیفئی پی جی آئی کے لئے ریفر کردیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
بتایا جاتا ہے کہ راہل کی دو سال پہلے ہی شادی ہوئی تھی اور اس قتل واقعہ کے بعد اس کے گھر میں ماتم کا ماحول ہے۔ اس درمیان پولیس نے بتایا کہ قتل کے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرایادیا گیا ہے۔ پولیس قاتل کی پوری سرگرمی کے ساتھ تلاش کررہی ہے۔